Personality Types: Basics

Updated: May 28

شخصیت کے اقسام

اگر یہ کہا جائے کہ ہر فرد دوسرے سے کسی نہ کسی معاملہ میں یکساں ہوتا ہے، تو یہ بات صحیح ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ہر فرد اپنے آپ میں انوکھا ہوتا ہے، تو یہ بات بھی صحیح ہے۔ یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ دیکھ نے والی آنکھ کتنی باریکی سے دیکھ رہی ہے۔ اگر مشاہدہ کر نے والا صرف سطحی چیزوں کو پیمانہ بنائے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ہر انسان ایک جیسا ہے۔ عموماً سب کے دو پیر ہیں ، دو ہاتھ ہیں، ایک ناک اور ایک منہ وغیرہ ہیں۔ جیسے جیسے مشاہدہ کرنے کے پیمانوں کی نوعیت میں اضافہ اور وسعت پیدا کی جائے گی ویسے ویسے انسانیت مختلف گروہوں میں تقسیم ہوتے چلے جائے گی۔ مثلاً پہلے یہ نتیجہ نکلے گا کہ انسانوں میں دو گروہ ہیں، مرد اور عورت۔ پھر ان پیمانوں کی نوعیت میں تبدیلی لائی جائے تو اندازہ ہو گا کہ انہیں عمر کے مطابق گروہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جیسے بوڑھے، ادھیڑ عمر کے، نوجوان اور بچے۔ اسی طرح کئی نوعیتوں کے پیمانے طے کر کے انسانوں کو کئی قسم کے گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ افراد کی گروہ بندی یا شخصیت کی اقسام متعین کرنا اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کن پیمانوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

ویسے تو personality type کے نظریہ کا وجود بیسویں صدی کے آغاز کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، لیکن چار مزاجوں (four temperaments) کی theory کم از کم ۲۵۰۰ سال پرانی ہے۔ جس کا استعمال یونانی طب میں ہوتا رہی ہے۔ موجودہ دور میں اس نظریہ کا آغاز مشہور سُوِس سائیکیاٹرسٹ، کارل جنگ(Carl Jung, Swiss Psychiatrist) اور امریکی خواتین ، کیتھرین برگس(Katharine Briggs) اور اس کی بیٹی ایزابیل مایرس(Isabel Myers) کے ذریعہ ہوا۔ ۱۹۲۱ء میں کارل جنگ نے ایک کتاب Psychological Types میں اپنی تھیوری شائع کی اور ۱۹۲۳ء میں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر، کیتھرین برگس نے اس تھیوری پر مزید کام کیا۔ اور کارل جنگ کی آٹھ personality type تھیوری میں مزید اضافہ کر کے انسانوں کو سولہ مختلف اقسام میں درجہ بند کیا ۔ جسےآج MBTI کے نام سے جانا جاتا ہے۔

چار dimension:

شخصیت کی اقسام (Personality Types) کے اس نظام کا انحصار چار مختلف پیمانوں پر ہے۔ جس کے ہر پیمانے میں دو متضاد اوصاف ہوتے ہیں اور ان چاروں پیمانوں میں ہر ایک میں ،دو میں سے کسی ایک وصف پر کسی فرد کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔

یہ چار dimensions درج ذیل ہیں:

۱۔ (Introversion (I)/Extroversion (E: یہ دو اوصاف اس بات پر منحصر ہیں کہ فرد دنیا سے کس طرح مخاطب ہوتا ہے اور اس کی energy کا بہاؤ کس رخ پرہے۔ ہر فرد کا فطری رجحان یا تو باہری دنیا میں ہوتا ہے یا اندرونی، حالانکہ ہر فرد میں دونوں رجحان پائے جاتے ہیں۔ لیکن خاص رجحان کسی ایک وصف کی طرف ہی ہوتا ہے۔ جو شخص مجموعی طور پر اندرونی دنیا میں اپنی توانائی صرف کرتا ہو وہ introvert کہلاتا ہے، اور جو باہری دنیا میں اپنی توانائی صرف کرتا ہے وہ extrovert کہلاتا ہے۔

۲۔ (Sensing (S)/Intuition (N: دوسرا dimension اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم کس طرح کی معلومات (information) کو خاطر میں لاتے ہیں۔ جو افراد حواس خمسہ کے ذریعہ حاصل کی گئی معلومات کو ترجیح دیتے ہیں وہ Sensors کہلاتے ہیں۔ یہ افراد کیا سنا گیا، دیکھا گیا، محسوس کیا گیا ، سونگھا گیا اور جو ذائقہ ملا اس پر یکسو ہوتے ہیں۔ حالانکہ تمام افراد حواس خمسہ ہی سے معلومات اخذ کر تے ہیں لیکن کچھ ہوتے ہیں جن کی ترجیح اس معلومات کے معنی، تعلق اور ممکنات پر ہوتی ہے۔ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ان افراد کا رجحان چھٹی حس پر زیادہ ہوتا ہے۔ جو افراد Intuitive ہوتے ہیں ان کی نظر عموماً بین السطری معلومات اور اس کے معنی پر ہوتی ہے۔

۳۔ (Thinking (T)/Feeling (F: تیسرا dimension فیصلہ سازی کے عمل سے تعلق رکھتا ہے۔ Thinkers اپنے فیصلوں کی بنیاد logicاور عقل پر رکھتے ہیں۔ اسی طرح Feelers جس چیز کو صحیح ’محسوس‘ کرتے ہیں ، وہ ان کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ Feelersمیں logic نہیں ہوتا یا Thinkers جذبات سے خالی ہوتے ہیں۔ بلکہ بات صرف یہ ہے کہ کون کس وصف کہ فوقیت دیتا ہے۔

۴۔ (Judging (J)/Perceiving (P: چوتھا اور آخری dimension اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ ہم کس طرح زندگی گزارتے ہیں۔ Judgers اپنی زندگی منصوبہ بند اور منظم گزارنا پسند کرتے ہیں۔ Perceivers اپنے آپشن کھلا رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اور چیزوں کو وقت پر نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انکے لیے یہ بات تناؤ کا باعث بنے گی کہ کوئی انہیں کسی مخصوص طریقے سے کام کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اسی طرح Judgers کے لیے غیر منظم کام تناؤ کا سبب ہو تے ہیں۔